(۳۸۹۴۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو ضِرَارٍ زَیْدُ بْنُ عَصْنٍ الضَّبِّیُّ، إمَامُ مَسْجِدِ بَنِی ہِلاَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مُجَاہِدِ بْنِ حَیَّانَ الضَّبِّیُّ مِنْ بَنِی مَبْذُولٍ ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَہُ یُقَالُ لَہُ : تَمِیمُ بْنُ ذُہْلٍ الضَّبِّیُّ ، قَالَ : إنِّی یَوْمَ الْجَمَلِ آخِذٌ بِرِکَابِ عَلِیٍّ أَجْہَدُ مَعَہُ وَأَنَا أَرَی أَنَّا فِی الْجَنَّۃِ وَہُوَ یَتَصَفَّحُ الْقَتْلَی ، فَمَرَّ بِرَجُلٍ أَعْجَبَتْہُ ہَیْئَتُہُ وَہُوَ مَقْتُولٌ، فَقَالَ: مَنْ یَعْرِفُ ہَذَا؟ قُلْتُ: ہَذَا فُلاَنٌ الضَّبِّی، وَہَذَا ابْنُہُ ، حَتَّی عَدَدْت سَبْعَۃً صَرْعَی مُقَتَّلِینَ حَوْلَہُ ، قَالَ: فَقَالَ عَلِیٌّ: لَوَدِدْت، أَنَّہُ لَیْسَ فِی الأَرْضِ ضَبِّیٌّ إِلاَّ تَحْتَ صَفْحَۃ ہَذَا الشَّیْخِ۔
(٣٨٩٤٩) تمیم بن ذھل ضبی سے منقول ہے کہ میں جنگ جمل کے دن حضرت علی کی رکاب تھامے ہوا تھا اور انہی کے ساتھ جنگ میں مصروف تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ میں جنت میں ہوں اور وہ مقتولین کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کی حالت بڑی عجیب تھی اور مقتول تھا۔ پس حضرت علی نے فرمایا اسے کون جانتا ہے ؟ میں نے کہا فلاں شخص ہے ضبی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور فلاں کا بیٹا ہے حتیٰ کہ میں نے سات مقتولین کو گنا جو اس کے گرد اوندھے پڑے ہوئے تھے۔ حضرت علی نے فرمایا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ زمین میں کوئی ضبی نہ ہوتا مگر اس شیخ کے ماتحت۔