(۳۸۹۵۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ یَعْقُوبَ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَدِمْت عَلَی عَلِیٍّ حِینَ فَرَغَ مِنَ الْجَمَلِ ، فَانْطَلَقَ إِلَی بَیْتِہِ وَہُوَ آخِذٌ بِیَدِی ، فَإِذَا امْرَأَتُہُ وَابْنَتَاہُ یَبْکِینَ ، وَقَدْ أَجْلَسْنَ وَلِیدَۃً بِالْبَابِ تُؤْذِنُہُنَّ بِہِ إِذَا جَائَ ، فَأَلْہَی الْوَلِیدَۃَ مَا تَرَی النِّسْوَۃَ یَفْعَلْنَ حَتَّی دَخَلَ عَلَیْہِنَّ ، وَتَخَلَّفْتُ فَقُمْت بِالْبَابِ ، فَأُسْکِتْنَ ، فَقَالَ : مَا لَکُنَّ فَانْتَہَرَہُنَّ مَرَّۃً ، أَوْ مَرَّتَیْنِ ، فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ : قُلْنَا : مَا سَمِعْت ذَکَرْنَا عُثْمَانَ وَقَرَابَتَہُ وَالزُّبَیْرَ وَطَلْحَۃَ وَقَرَابَتَہُ ، فَقَالَ : إنِّی لأَرْجُو أَنْ نَکُونَ کَالَّذِینَ ، قَالَ اللَّہُ : {وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ إخْوَانًا عَلَی سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ} وَمَنْ ہُمْ إِنْ لَمْ نَکُنْ ، وَمَنْ ہُمْ یُرَدِّدُ ذَلِکَ حَتَّی وَدِدْت أَنَّہُ سَکَتَ۔
(٣٨٩٥٠) عبداللہ بن حارث سے منقول ہے کہ میں حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ جنگ جمل سے فارغ ہوچکے تھے۔ وہ میرا ہاتھ تھام کر اپنے گھر لے گئے۔ وہاں ان کی اہلیہ اور دو بیٹیاں رو رہی تھیں باندی کو دروازے پر بٹھایا ہوا تھا تاکہ وہ انھیں کسی کے آنے کی خبر دیں۔ عورتوں کو روتے ہوئے دیکھ کر وہ غافل ہوگئی۔ حتی کہ حضرت علی اندر داخل ہوئے اور میں پیچھے ٹھہر گیا اور دروازے پر کھڑا ہوگیا، چنانچہ وہ خاموش ہوگئیں حضرت علی نے ان سے کہا تم کیوں رو رہی ہو ؟ پھر ایک یا دو دفعہ ڈانٹا پھر ان میں سے ایک عورت نے کہا کہ ہم وہی کہہ رہے ہیں جو آپ نے حضرت عثمان اور ان کی رشتہ داری (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) حضرت زبیر اور ان کی رشتہ داری کے بارے میں ہم سے سنا۔ حضرت علی نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ ہم ان لوگوں کی طرح ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” ہم ان کے دلوں سے خفگی دور کردیں گے وہ بھائی بھائی ہوں گے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ پھر حضرت علی نے فرمایا کون ہوں گے اگر ہم نہ ہوں گے ؟ وہ کون ہوں گے ؟ اس بات کو انھوں نے کئی بار دہرایایہاں تک کہ میرے د ل میں خواہش پیدا ہوگئی کہ یہ خاموش ہوجائیں۔