hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38953

.

ابن أبي شيبة

38953
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۹۵۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ، قَالَ: حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ زِیَادٍ، عَنْ أم الصَّیْرَفِیِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ قَبِیصَۃَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَان قُلْتُ : مَا یُقِیمُنِی بِالْعِرَاقِ ، وَإِنَّمَا الْجَمَاعَۃُ بِالْمَدِینَۃِ عِنْدَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ، قَالَ: فَخَرَجْت فَأُخْبِرْت، أَنَّ النَّاسَ قَدْ بَایَعُوا عَلِیًّا، قَالَ: فَانْتَہَیْت إِلَی الرَّبَذَۃِ وَإِذَا عَلِیٌّ بِہَا، فَوُضِعَ لَہُ رَحْلٌ فَقَعَدَ عَلَیْہِ، فَکَانَ کَقِیَامِ الرَّجُلِ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ إِنَّ طَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرَ قد بَایَعَا طَائِعَیْنِ غَیْرَ مُکْرَہَیْنِ، ثُمَّ أَرَادَا أَنْ یُفْسِدَا الأَمْرَ وَیَشقَّا عَصَا الْمُسْلِمِینَ ، وَحَرَّضَ عَلَی قِتَالِہِمْ، قَالَ: فَقَامَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَقُلْ لَکَ إِنَّ الْعَرَبَ سَتَکُونُ لَہُمْ جَوْلَۃٌ عِنْدَ قَتْلِ ہَذَا الرَّجُلِ ، فَلَوْ أَقَمْت بِدَارِکَ الَّتِی کُنْتَ بِہَا ، یَعْنِیَ الْمَدِینَۃَ فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ تُقْتَلَ بِحَالِ مَضْیَعَۃٍ لاَ نَاصِرَ لَکَ ، قَالَ : فَقَالَ عَلِیٌّ : اجْلِسْ فَإِنَّمَا تَخِنُّ کما تخن الْجَارِیَۃُ ، أو إِنَّ لَکَ خَنِینًا کَخَنِینِ الْجَارِیَۃِ ، آللہِ أَجْلِسُ بِالْمَدِینَۃِ کَالضَّبُعِ تَسْتَمِعُ اللَّدْمَ ، لَقَدْ ضَرَبْت ہَذَا الأَمْرَ ظَہْرَہُ وَبَطْنَہُ ، أَوْ رَأْسَہُ وَعَیْنَیْہِ ، فَمَا وَجَدْت إِلاَّ السَّیْفَ ، أَوِ الْکُفْرَ۔ (حاکم ۱۱۵)
(٣٨٩٥٤) طارق بن شباب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کو قتل کیا گیا میں نے دل میں سوچا کہ مجھے کس شئے نے عراق میں ٹھہرایا ہوا ہے حالانکہ جماعت تو مدینہ میں ہے مہاجرین اور انصار کے پاس کہتے ہیں میں نکلا مجھے خبر ملی کہ لوگوں نے حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے کہتے ہیں کہ میں ربذہ مقام پر پہنچا تو وہاں حضرت علی موجود تھے۔ ان کے لیے ایک شخص نے بیٹھنے کے لیے نشست رکھی۔ پس حضرت علی کھڑے ہونے کی حالت میں تھے۔ انھوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا کہ طلحہ اور زبیر نے بیعت خوشی خوشی کی تھی نہ کہ حالت اکراہ میں۔ اب چاہتے ہیں کہ وہ معاملے کو بگاڑ دیں اور مسلمانوں کی لاٹھی (جمعیت) کو توڑ ڈالیں، حضرت علی نے ان سے قتال کرنے کے لیے لوگوں کو ابھارا۔ پھر حسن بن علی کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ عرب ان کے ساتھ جمع ہوجائیں گے اگر اس شخص (حضرت عثمان ) کو شہید کیا گیا۔ اگر آپ اپنے گھر میں رہتے یعنی مدینہ میں تو مجھے ڈر تھا کہ آپ کو بھی اسی لاپرواہی سے قتل کردیاجاتا اور آپ کا کوئی مدد گار نہ ہوتا۔ حضرت علی نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تم ایسے گنگناتے ہو جیسے دوشیزہ گنگناتی ہے یا یہ فرمایا کہ تمہارے لیے ایسا گنگنا ہونا ہے جیسے دوشیزہ کے لیے گنگنا ہونا۔ اللہ کی قسم میں مدینہ میں اس بھیڑیے کی طرح بیٹھا تھا جو زمین پر پتھر گر نے کی آواز سن رہا ہو۔ پس میں نے اس معاملے کا بہت گہرائی سے مشاہدہ کیا میں نے سوائے تلوار یا کفر کے کچھ نہیں پایا۔