(۳۸۹۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : کَانَ مَرْوَانُ مَعَ طَلْحَۃَ یَوْمَ الْجَمَلِ ، قَالَ : فَلَمَّا اشْتَبَکَتِ الْحَرْبُ ، قَالَ مَرْوَانُ : لاَ أَطْلُبُ بِثَأْرِی بَعْدَ الْیَوْمِ ، قَالَ : ثُمَّ رَمَاہُ بِسَہْمٍ فَأَصَابَ رُکْبَتَہُ ، فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّی مَاتَ ، قَالَ : وَقَالَ طَلْحَۃُ : دَعَوْہُ فَإِنَّمَا ہُوَ سَہْمٌ أَرْسَلَہُ اللَّہُ۔
(٣٨٩٥٨) قیس سے منقول ہے کہ مروان جنگ جمل کے دن حضرت طلحہ کے ساتھ تھا۔ جب جنگ چھڑ چکی تو مروان نے کہا میں آج کے بعد انتقام طلب نہیں کروں گا پھر ان کی طرف تیر پھینکا جو حضرت طلحہ کے گھٹنے میں لگا اور خون مسلسل بہتا رہا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے حضرت طلحہ نے (شہادت سے پہلے) فرمایا اس زخم کو چھوڑ دو یہ وہ تیر ہے جسے اللہ نے بھیجا ہے۔