(۳۸۹۵۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَرْسَلَ إلَیَّ مُوسَی بْنُ طَلْحَۃَ فِی حَاجَۃٍ فَأَتَیْتہ ، قَالَ : فَبَیْنَا أَنَا عِنْدَہُ إذْ دَخَلَ عَلَیْہِ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْمَسْجِد ، فَقَالُوا : یَا أَبَا عِیسَی ، حدثنا فِی الأُسَارَی لَیْلَتَنَا ، فَسَمِعْتہمْ یَقُولُونَ : أَمَّا مُوسَی بْنُ طَلْحَۃَ فَإِنَّہُ مَقْتُولٌ بُکْرَۃً ، فَلَمَّا صَلَّیْت الْغَدَاۃَ جَائَ رَجُلٌ یَسْعَی الأُسَارَی الأُسَارَی ، قَالَ : ثُمَّ جَائَ آخَرُ فِی أَثَرِہِ یَقُولُ : مُوسَی بْنُ طَلْحَۃَ ، مُوسَی بْنُ طَلْحَۃَ قَالَ : فَانْطَلَقْت ، فَدَخَلْتُ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَسَلَّمْت ، فَقَالَ : أَتَبَایَعُ تَدْخُلُ فِیمَا دَخَلَ فِیہِ النَّاسُ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ہَکَذَا ، وَمَدَّ یَدَہُ فَبَسَطَہُمَا قَالَ : فَبَایَعْتہ ، ثُمَّ قَالَ : ارْجِعْ إِلَی أَہْلِکَ وَمَالِکِ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَنی النَّاسَ قَدْ خَرَجْت ، قَالَ : جَعَلُوا یَدْخُلُونَ فَیُبَایِعُونَ۔
(٣٨٩٥٩) حضرت سوار سے منقول ہے کہ موسیٰ بن طلحہ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے اپنے پاس بلایا میں حاضر خدمت ہوا۔ میں ان کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی اثنا میں مسجد کے کچھ لوگ حضرت موسیٰ بن طلحہ کے پاس آئے اور کہا اے ابو عیسیٰ ہمیں ہماری رات کے اساری کے بارے میں بتائیے، حضرت سوار صبح کے وقت قتل کردئیے جائیں گے پس جب میں نے صبح کی نماز ادا کی تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا جو پکارتے ہوئے کہہ رہا تھا الا ساری الا ساری پھر ایک دوسرا شخص اس کے نقش قدم پر چلتا ہوا آیا وہ پکار رہا تھا موسیٰ بن طلحہ موسیٰ بن طلحہ حضرت سوار فرماتے ہیں کہ پس میں چلا اور امیر المومنین کے پاس آیا اور سلام کیا۔ امیر المومنین نے کہا کہ کیا تم نے بیعت کرلی ؟ جہاں لوگ داخل ہوئے تم داخل ہوگئے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ سوار فرماتے ہیں کہ اس طرح (ہاتھ پھیلائے ہوئے) امیر المومنین نے اپنے ہاتھ پھیلائے۔ پھر کہا تم نے بیعت کرلی پھر کہا تم اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹ جاؤ جب لوگوں نے مجھے نکلتے ہوئے دیکھا تو وہ داخل ہونا شروع ہوئے اور بیعت کرنے لگے۔