(۳۸۹۸۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی ضُبَیْعَۃَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ طَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ نَزَلاَ فِی بَنِی طَاحِیَۃَ ، فَرَکِبْت فَرَسِی فَأَتَیْتہمَا فَدَخَلْت عَلَیْہِمَا الْمَسْجِدَ ، فَقُلْتُ : إنَّکُمَا رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نشدتکما باللہ فی مسیرکما ، أعہد إلیکما فیہ رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَمْ رَأْیٌ رَأَیْتُمَا ؟ فَأَمَّا طَلْحَۃُ فَنَکَّسَ رَأْسَہُ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ ، وَأَمَّا الزُّبَیْرُ ، فَقَالَ : حُدِّثْنَا أَنَّ ہَاہُنَا دَرَاہِمَ کَثِیرَۃً فَجِئْنَا نَأْخُذُ مِنْہَا۔
(٣٨٩٨١) ابو نضرہ بنو ضبیعہ کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جب طلحہ اور زبیر بنو طاحیہ مں ت تشریف فرما ہوئے تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان کے پاس آیا اور ان کے پاس مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے ان سے کہا آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں ! کیا یہ کوئی رائے ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں پس حضرت طلحہ نے تو سر جھکا لیا اور کوئی بات نہیں کی اور زبیر نے کلام کیا اور ر فرمایا کہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ یہاں کافی سارے دراہم ہیں ہم انھیں لینے کے لیے آئے ہیں۔