(۳۸۹۸۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِی حَیَّۃَ، قَالَ: خَلاَ عَلِیٌّ بِالزُّبَیْرِ یَوْمَ الْجَمَلِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُک بِاللہِ کَیْفَ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ وَأَنْتَ لاَوٍ یَدِی فِی سَقِیفَۃِ بَنِی فُلاَنٍ: لَتُقَاتِلَنَّہُ وَأَنْتَ ظَالِمٌ لَہُ، ثُمَّ لَیُنْصَرَنَّ عَلَیْک، قَالَ: قَدْ سَمِعْت لاَ جَرَمَ، لاَ أُقَاتِلُک۔
(٣٨٩٨٢) عبدالسلام سے منقول ہے کہ حضرت علی جنگ جمل کے دن حضرت زبیر سے علیحدگی میں ملے اور فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتاہوں بتاؤ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے نیں ن سنا جبکہ تم فلاں قبیلے کے چھپر کے نیچے میرے ہاتھ پر جھکے کھڑے تھے تم اس سے قتال کرو گے اور تم اس پر ظلم کرنے والے ہوگے پھر تم پر تمہارے خلاف مدد کی جائے گی حضرت زبیر نے فرمایا میں نے سنا ہے یقیناً اور اب میں آپ سے قتال نہیں کروں گا۔