(۳۸۹۸۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ ، عَنْ جَحْشِ بْنِ زِیَادٍ الضَّبِّیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَحْنَفَ بْنَ قَیْسٍ یَقُولُ : لَمَّا ظَہَرَ عَلِیٌّ عَلَی أَہْلِ الْجَمَلِ أَرْسَلَ إِلَی عَائِشَۃَ : ارْجِعِی إِلَی الْمَدِینَۃِ وَإِلَی بَیْتِکَ ، قَالَ : فَأَبَتْ ، قَالَ : فَأَعَادَ إلَیْہَا الرَّسُولَ ؛ وَاللہِ لَتَرْجِعَنْ ، أَوْ لأَبْعَثَنَّ إلَیْک نِسْوَۃً مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ مَعہُنَّ شِفَارٌ حِدَادٌ یَأْخُذْنَک بِہَا ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِکَ خَرَجَتْ۔
(٣٨٩٨٥) احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی اہل بصرہ کے پاس آئے تو حضرت عائشہ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ مدینے اپنے گھر لوٹ جاؤ تو حضرت عائشہ نے انکار کیا حضرت علی نے پھر اپنے پیغام رساں کو بھیجا کہ اللہ کی قسم تم لوٹ جاؤ ورنہ میں تمہاری طرف بکر بن وائل کی ایسی عورتوں کو بھیجوں گا جس کے پاس تیز دھار والی چھریاں ہیں وہ تجھ پر ان سے حملہ کریں گی۔ جب حضرت عائشہ نے یہ دیکھا تو وہ چلی گئیں۔