(۳۸۹۸۶) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَعْقُوبُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی الْمُغِیرَۃِ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَی ، قَالَ : انْتَہَی عَبْدُ اللہِ بْنُ بُدَیْلٍ إِلَی عَائِشَۃَ وَہِیَ فِی الْہَوْدَجِ یَوْمَ الْجَمَلِ ، فَقَالَ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، أَنْشُدُک بِاللہِ ، أَتَعْلَمِینَ أَنِّی أَتَیْتُکِ یَوْمَ قَتْلِ عُثْمَانَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ فَمَا تَأْمُرِینِی ، فَقُلْتِ لِی : الْزَمْ عَلِیًّا ، فَوَاللہِ مَا غَیَّرَ وَلاَ بَدَّلَ ، فَسَکَتَتْ ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَیْہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَسَکَتَتْ، فَقَالَ: اعْقُرُوا الْجَمَلَ، فَعَقَرُوہُ، قَالَ: فَنَزَلْت أَنَا وَأَخُوہَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَاحْتَمَلْنَا الْہَوْدَجَ حَتَّی وَضَعَنَاہُ بَیْنَ یَدَیْ عَلِی ، فَأَمَرَ بِہِ عَلِیٌّ فَأُدْخِلَ فِی مَنْزِلِ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُدَیْلٍ ، قَالَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِی الْمُغِیرَۃِ : وَکَانَتْ عَمَّتِی عِنْدَ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُدَیْلٍ ، فَحَدَّثَتْنِی عَمَّتِی ، أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ لَہَا : أَدْخِلِینِی ، قَالَتْ : فَأَدْخَلْتہَا الدَّاخِل وَأَتَیْتہَا بِطَشْتٍ وَإِبْرِیقٍ وَأَجَفْت عَلَیْہَا الْبَابَ ، قَالَتْ : فَاطَّلَعْت عَلَیْہَا مِنْ خَلَلِ الْبَابِ وَہِیَ تُعَالِجُ شَیْئًا فِی رَأْسِہَا مَا أَدْرِی شَجَّۃٌ ، أَوْ رَمْیَۃٌ۔
(٣٨٩٨٦) ابن ابزی سے منقول ہے کہ عبداللہ بن بدیل حضرت عائشہ کے پاس پہنچے وہ ھودج میں تھیں جنگ جمل کے دن پھر عرض کیا اے ام المومنین آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ جانتی ہو کہ میں آپ کے پاس اس دن حاضر ہوا تھا جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا تھا۔ میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ حضرت عثمان شہید ہوگئے اب آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ حضرت علی کو لازم پکڑو۔ اللہ کی قسم وہ بدلے نہیں پس حضرت عائشہ خاموش ہوگئیں پھر یہی بات عبداللہ بن بدیل نے تین دفعہ دہرائی پس وہ خاموش رہیں۔ عبداللہ بن بدیل نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا حکم دیا تو اونٹنی کی کانچیں کاٹ دی گئیں پس میں اور حضرت عائشہ کے بھائی محمد بن ابوبکر اترے اور ان کے ھودج کو اٹھا کر حضرت علی کے سامنے رکھ دیا۔ پھر ان کو حضرت علی کے حکم سے عبداللہ بن بدیل کے گھر میں داخل کردیا۔ جعفر بن ابو مغیرہ کہتے ہیں کہ میری پھوپھی عبداللہ بن بدیل کے ہاں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ عائشہ نے ان سے فرمایا مجھے اندر داخل کردو پس میں نے انھیں اندر داخل کردیا اور میں نے ان کو ایک سفلچی (ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن) اور جگ ان کے پاس رکھ دیا اور دروازہ بند کردیا۔ کہتی ہیں کہ میں دروازے کی دراڑوں میں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ اپنے سر کا علاج کر رہیں تھیں میں نہیں جانتی کہ ان کے سر میں کوئی زخم تھا یاتیر کا زخم۔