hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38987

.

ابن أبي شيبة

38987
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۹۸۸) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: حدَّثَنَا زَائِدَۃُ، عَنْ عمر بْنِ قَیْسٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، قَالَ: أَقْبَلَ طَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ حَتَّی نَزَلاَ الْبَصْرَۃَ وَطَرَحُوا سَہْلَ بْنَ حُنَیْفٍ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عَلِیًّا ، وَعَلِیٌّ کَانَ بَعَثَہُ عَلَیْہَا ، فَأَقْبَلَ حَتَّی نَزَلَ بِذِی قَارٍ ، فَأَرْسَلَ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَبَّاسٍ إِلَی الْکُوفَۃِ فَأَبْطَؤُوا عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَتَاہُمْ عَمَّارٌ فَخَرَجُوا ، قَالَ زَیْدٌ : فَکُنْت فِیمَنْ خَرَجَ مَعَہُ ، قَالَ : فَکَفَّ عَنْ طَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ وَأَصْحَابِہِمَا ، وَدَعَاہُمْ حَتَّی بَدَؤُوہُ فَقَاتَلَہُمْ بَعْدَ صَلاَۃِ الظُّہْرِ ، فَمَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَحَوْلَ الْجَمَلِ عَیْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ کَانَ یَذُبُّ عَنْہُ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : لاَ تُتِمُّوا جَرِیحًا وَلاَ تَقْتُلُوا مُدْبِرًا وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ وَأَلْقَی سِلاَحَہُ فَہُوَ آمِنٌ فَلَمْ یَکُنْ قِتَالُہُمْ إِلاَّ تِلْکَ الْعَشِیَّۃَ وَحْدَہَا ۔ ۲۔ فَجَاؤُوا بِالْغَدِ یُکَلِّمُونَ عَلِیًّا فِی الْغَنِیمَۃِ فقرأ علَیَّ ہَذِہِ الآیَۃَ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّ اللَّہَ یَقُولُ : {وَاعْلَمُوا أَنَمَّا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ} أَیُّکُمْ لِعَائِشَۃَ فَقَالُوا : سُبْحَانَ اللہِ ، أُمُّنَا ، فَقَالَ : أَحَرَامٌ ہِیَ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ عَلِیٌّ : فَإِنَّہُ یَحْرُمُ مِنْ بَنَاتِہَا مَا یَحْرُمُ مِنْہَا قَالَ : أَفَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ أَنْ یَعْتَدِدْنَ مِنَ الْقَتْلَی أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ، قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : أَفَلَیْسَ لَہُنَّ الرُّبُعُ وَالثُمُنُ مِنْ أَزْوَاجِہِنَّ ، قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ الْیَتَامَی لاَ یَأْخُذُونَ أَمْوَالَہُمْ ، ثُمَّ قَالَ : یَا قَنْبَرُ ، مَنْ عَرَفَ شَیْئًا فَلْیَأْخُذْہُ ، قَالَ زَیْدٌ : فَرَدَّ مَا کَانَ فِی الْعَسْکَرِ وَغَیْرِہِ ۔ ۳۔ قَالَ : وَقَالَ عَلِیٌّ لِطَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ : أَلَمْ تُبَایِعَانِی ؟ فَقَالاَ: نَطْلُبُ دَمَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : لَیْسَ عِنْدِی دَمُ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ عمر بْنُ قَیْسٍ : فَحَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ یُقَالُ لَہُ أَبُو قَیْسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَادَی قَنْبَرٌ مَنْ عَرَفَ شَیْئًا فَلْیَأْخُذْہُ ، مَرَّ رَجُلٌ عَلَی قِدْرٍ لَنَا وَنَحْنُ نَطْبُخُ فِیہَا فَأَخَذَہَا ، فَقُلْنَا : دَعْہَا حَتَّی یَنْضَجَ مَا فِیہَا ، قَالَ : فَضَرَبَہَا بِرِجْلِہِ ، ثُمَّ أَخَذَہَا۔ (طحاوی ۲۱۲)
(٣٨٩٨٨) زید بن وہب سے منقول ہے طلحہ اور زبیر بصرہ تشریف لائے اور سہل بن حنیف کے سامنے معاملہ پیش کیا یہ بات حضرت علی کو پہنچی حالانکہ حضرت علی نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا تھا پس حضرت علی تشریف لائے اور ذی قار مقام میں قیام فرمایا پھر عبداللہ بن عباس کو کوفہ بھیجا کوفہ والوں نے پس وپیش سے کام لیا پھر عمار کوفہ والوں کے پاس آئے پھر کوفہ والے نکل پڑے زیدکہتے ہیں کہ میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا جو حضرت عمار ساتھ نکلے تھے پس حضرت علی نے طلحہ و زبیر اور ان کے ساتھیوں سے ہاتھ روکے رکھا اور ان کو حق کی طرف بلاتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے خود ہی لڑائی کی ابتدا کی پس ان کے ساتھ نماز ظہر کے بعد قتا ل کیا سورج غروب نہیں ہوا تھا کہ اونٹ کے گرد اونٹ کا دفاع کرتے ہوئے بہت سے لوگ ہلاک ہوگئے پس حضرت علی نے فرمایا کہ تم زخمی کو قتل نہ کرو اور نہ ہی واپس بھاگنے والے کو قتل کرو اور جو اپنا دروازہ بند کرے اور اپنا ہتھیار پھینک دے اس کو امن ہے پس قتال نہیں ہوا مگر صرف اسی شام کو حضرت علی کے ساتھی اگلی صبح کو آئے اور حضرت علی سے مال غنیمت سے مال غنیمت کا مطالبہ کرنے لگے تو حضرت علی کا قول یہ آیت تھی کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
{ وَاعْلَمُوا أَنَمَّا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ } تم میں سے کون ہے حضرت عائشہ کے لیے تو انھوں نے کہا سبحان اللہ وہ تو ہماری ماں ہے حضرت علی نے فرمایا کیا وہ حرام ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں ! پھر حضرت علی نے فرمایا کہ جو ان سے (ام المومنین سے) حرام ہے وہ ان کی بیٹیوں سے بھی حرام ہے۔ پھر فرمایا کہ کیا ان کے مقتول شوہروں کی وجہ سے ان کی عدت چار ماہ دس دن نہیں ؟ تو لوگوں نے جواب دیا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا کیا ان بیواؤں کے لیے ربع اور ثمن نہیں ان کے شوہروں کے اموال سے ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں۔ تو پھر یتیموں کو کیوں حق نہیں کہ وہ ان کے اموال نہ لیں۔
پھر فرمایا اے قنبر جو اپنی شئے پہچان لے وہ اپنی شئے اٹھا لے۔ پس جو لشکر کے پاس مدمقابل لوگوں کا سامان تھا لوٹا دیا گیا۔ حضرت علی نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر سے فرمایا کہ تم نے بیعت نہیں کی تھی میرے ہاتھ پر ؟ تو انھوں نے کہا کہ ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا کہ حضرت عثمان کا خون میرے سر تو نہیں عمروبن قیس کہتے ہیں کہ مجھے ابو قیس جو حضر موت سے تعلق رکھتے تھے کہا جب قنبر نے ندا لگائی کہ اپنی چیزوں کو پہچان کرلے لو تو ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا ہم دیگچی میں کچھ پکا رہے تھے۔ اس نے اس دیگچی کو اٹھا لیا ہم نے کہا اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اس میں جو ہے پک جائے ابو قیس کہتے ہیں کہ اس نے دیگچی میں ٹانگ ماری اور اس کو پکڑ کر چلتا ہوا۔