(۳۸۹۸۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو مُوسَی ، وَأَبُو مَسْعُودٍ عَلَی عَمَّارٍ وَہُوَ یَسْتَنْفِرُ النَّاسَ ، فَقَالاَ: مَا رَأَیْنَا مِنْک مُنْذُ أَسْلَمْت أَمْرًا أَکْرَہَ عِنْدَنَا مِنْ إسْرَاعِکَ فِی ہَذَا الأَمْرِ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : مَا رَأَیْت مِنْکُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَکْرَہَ عِنْدِی مِنْ إبْطَائِکُمَا عَنْ ہَذَا الأَمْرِ ، قَالَ : فَکَسَاہُمَا حُلَّۃً حُلَّۃً ، وَخَرَجُوا إِلَی الصَّلاَۃِ جَمِیعًا۔
(٣٨٩٨٩) ابو وائل سے منقول ہے کہ ابو موسیٰ اور ابو مسعود حضرت عمار کے پاس آئے جبکہ وہ لوگوں کو (حضرت علی کی مدد کے لیے) ابھار رہے تھے۔ پس ان دونوں نے حضرت عمار سے کہا کہ جب سے آپ ایمان لائے ہیں ہم نے آپ کے معاملے میں جلدی کرنے سے زیادہ ناپسندیدہ عمل نہیں دیکھا۔ حضرت عمار نے فرمایا کہ جب سے تم مسلمان ہوئے ہو میں نے تمہارے اس معاملے میں کوتاہی کرنے سے زیادہ ناپسندیدہ عمل نہیں دیکھا۔ پس حضرت عمار نے ان کو ایک ایک جوڑا پہنایا اور پھر سب کے سب نماز کے لیے چلے گئے۔