(۳۸۹۹۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : رَأَی فِی الْمَنَامِ أَبُو المَیْسَرَۃَ عَمْرَو بْنُ شُرَحْبِیلَ ، وَکَانَ مِنْ أَفْضَلِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ کَأَنِّی أُدْخِلْت الْجَنَّۃَ ، فَرَأَیْتُ قِبَابًا مَضْرُوبَۃً ، فَقُلْتُ : لِمَنْ ہَذِہِ ؟ فَقِیلَ : ہَذِہِ لِذِی الْکَلاَعِ وَحَوْشَبٍ ، وَکَانَا مِمَّنْ قُتِلَ مَعَ مُعَاوِیَۃَ یَوْمَ صِفِّینَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَیْنَ عَمَّارٌ وَأَصْحَابُہُ ، قَالُوا : أَمَامَک قُلْتُ : وَکَیْفَ وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، قَالَ : قِیلَ : إنَّہُمْ لَقُوا اللَّہَ فَوَجَدُوہُ وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : فَمَا فَعَلَ أَہْلُ النَّہَرِ ، قَالَ : فَقِیلَ : لَقُوا بَرَحًا۔ (ابن سعد ۲۶۳۔ نعیم ۱۴۳)
(٣٨٩٩٩) ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے ایک قریبی ساتھی ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا اور میں نے دیکھا کہ ایک بہت خوبصورت گنبد والا محل ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کس کا ہے ؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ ذوالکلاع اور حوشب کا ہے۔ یہ دونوں جنگ صفین میں حضرت معاویہ کی معیت میں تھے اور شہید ہوئے تھے۔ میں نے کہا عمار اور ان کے ساتھی کہاں ہیں ؟ مجھے بتایا گیا کہ وہ آپ کے سامنے ہیں۔ میں نے کہا کہ ان لوگوں نے تو ایک دوسرے کو قتل کیا تھا پھر سب جنت میں کیسے آگئے۔ مجھے بتایا گیا کہ جب وہ اللہ سے ملے تو اللہ کو انھوں نے وسیع رحمت والا پایا۔ میں نے کہا کہ اہل نہرکا کیا بنا ؟ مجھے بتایا گیا کہ انھیں شدت کا سامنا ہوا۔