(۳۹۰۰۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَسْوَدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ خُوَیْلِدٍ الْعَصَرِیِّ ، قَالَ : إنِّی لَجَالِسٌ عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ إذْ أَتَاہُ رَجُلاَنِ یَخْتَصِمَانِ فِی رَأْسِ عَمَّارٍ ، کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا یَقُولُ : أَنَا قَتَلْتُہُ ، قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو : لِیَطِبْ بِہِ أَحَدُکُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِہِ ، فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ : أَلاَ تُغْنِی عَنَّا مَجْنُونَک یَا عَمْرُو ، فَمَا بَالُک مَعَنا ، قَالَ : إنِّی مَعَکُمْ وَلَسْت أُقَاتِلُ ، إِنَّ أَبِی شَکَانِی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَطِعْ أَبَاک مَا دَامَ حَیًّا وَلاَ تَعْصِہِ ، فَأَنَا مَعَکُمْ ، وَلَسْت أُقَاتِلُ۔ (نسائی ۸۵۴۹۔ احمد ۱۶۴)
(٣٩٠٠٠) حضرت حنظلہ بن خویلد عنزی کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس دو آدمی حضرت عمار کی شہادت کا دعویٰ کرتے ہوئے آئے۔ ایک کہتا تھا کہ انھیں میں نے مارا اور دوسرا کہتا تھا کہ انھیں میں نے مارا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لیے دستبردار ہونا پڑے گا کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو ایک باغی جماعت شہید کرے گی۔ یہ سن کر حضرت معاویہ نے فرمایا کہ اے عمرو ! تمہارا ہمارے بارے میں کیا خیال ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لکن میں قتال نہیں کروں گا۔ میرے والد نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میری شکایت کی تھی تو آپ نے مجھے فرمایا تھا کہ اپنے باپ کی اطاعت کرو اور جب تک زندہ ہو ان کی نافرمانی نہ کرنا۔ لہٰذا میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن قتال نہیں کروں گا۔