(۳۹۰۱۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ فِی قَوْلِہِ : {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَیْنَہُمَا فَإِنْ بَغَتْ إحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی حَتَّی تَفِیئَ إِلَی أَمْرِ اللہِ} قَالَ : بِالسَّیْفِ ، قَالَ قُلْتُ : فَمَا قَتلاَہُمْ ، قَالَ : شُہَدَائُ مَرْزُوقُونَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا حَالُ الأُخْرَی أَہْلِ الْبَغْیِ مَنْ قُتِلَ مِنْہُمْ ، قَالَ: إِلَی النَّارِ۔
(٣٩٠١٨) حضرت ضحاک نے قرآن مجید کی آیت { وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَیْنَہُمَا فَإِنْ بَغَتْ إحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی حَتَّی تَفِیئَ إِلَی أَمْرِ اللہِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اسے تلوار سے درست کرو۔ شاگرد نے پوچھا کہ ان کے مقتولین کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا کہ وہ جنت کے رزق یافتہ شہداء ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ بغاوت کرنے والوں کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا وہ جہنمی ہیں۔