(۳۹۰۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : حدَّثَنِی غَیْرُ وَاحِدٍ ، أَنَّ قَاضِیًا مِنْ قُضَاۃِ الشَّامِ أَتَی عُمَرَ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، رُؤْیَا أَفْظَعَتْنِی ، قَالَ : مَا ہِیَ ، قَالَ : رَأَیْتُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ یَقْتَتِلاَنِ ، وَالنُّجُومُ مَعَہُمَا نِصْفَیْنِ ، قَالَ : فَمَعَ أَیَّتِہِمَا کُنْت ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ الْقَمَرِ عَلَی الشَّمْسِ ، فَقَالَ عُمَرُ : {وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً} فَانْطَلِقْ فَوَاللہِ لاَ تَعْمَلُ لِی عَمَلاً أَبَدًا ، قَالَ عَطَائٌ : فَبَلَغَنِی ، أَنَّہُ قُتِلَ مَعَ مُعَاوِیَۃَ یَوْمَ صِفِّینَ۔
(٣٩٠١٩) حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ مجھ سے کئی لوگوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ شام کا ایک قاضی حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اے امیر المومنین میں نے ایک خواب دیکھا جس نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ سورج اور چاند باہم قتال کررہے ہیں اور ستارے آدھے آدھے دونوں کے ساتھ ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ تم کس کے ساتھ تھے ؟ میں نے کہا کہ میں چاند کے ساتھ تھا اور سورج کے خلاف لڑرہا تھا۔ حضرت عمر نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی { وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً } پھر فرمایا کہ چلے جاؤ، میں آئندہ تمہیں کوئی کام نہیں دوں گا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ کی معیت میں مارا گیا تھا۔