(۳۹۰۴۷) حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ أَبُو مُرَیٍّ ، عَنْ أَبِی غَالِبٍ ، قَالَ : کُنْتُ فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَجَاؤُوا بِسَبْعِینَ رَأْسًا مِنْ رُؤُوسِ الْحَرُورِیَّۃِ فَنُصِبَتْ عَلَی دُرْجِ الْمَسْجِد ، فَجَائَ أَبُو أُمَامَۃَ فَنَظَرَ إلَیْہِمْ ، فَقَالَ : کِلاَبُ جَہَنَّمَ ، شَرُّ قَتْلَی قُتِلُوا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَائِ ، وَمَنْ قَتَلُوا خَیْرُ قَتْلَی تَحْتَ السَّمَائِ ، وَبَکَی وَنَظَرَ إلَیَّ ، وَقَالَ : یَا أَبَا غَالِبٍ ، إنَّک مِنْ بَلَدِ ہَؤُلاَئِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَعَاذَک ، قَالَ : أَظُنُّہُ
قَالَ : اللَّہُ مِنْہُمْ : قَالَ : تَقْرَأُ آلَ عِمْرَانَ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : {مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ فَأَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَائَ تَأْوِیلِہِ ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلاَّ اللَّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ} وقَالَ : {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَأَمَّا الَّذِینَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ أَکَفَرْتُمْ بَعْدَ إیمَانِکُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ} قُلْتُ : یَا أَبَا أُمَامَۃَ ، إنِّی رَأَیْتُک تَہْرِیقُ عَبْرَتَکَ ، قَالَ: نَعَمْ ، رَحْمَۃً لَہُمْ ، إنَّہُمْ کَانُوا مِنْ أَہْلِ الإِسْلاَم ، قَالَ : قد افْتَرَقَتْ بَنُو إسْرَائِیلَ عَلَی وَاحِدَۃٍ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً ، وَتَزِیدُ ہَذِہِ الأُمَّۃُ فِرْقَۃً وَاحِدَۃً ، کُلُّہَا فِی النَّارِ إِلاَّ السَّوَادَ الأَعْظَمَ عَلَیْہِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَیْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ، وَإِنْ تُطِیعُوہُ تَہْتَدُوا ، وَمَا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ ، السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ خَیْرٌ مِنَ الْفُرْقَۃِ وَالْمَعْصِیَۃِ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : یَا أَبَا أُمَامَۃَ ، أَمِنْ رَأْیِکَ تَقُولُ أَمْ شَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنِّی إذًا لَجَرِیئٌ، قَالَ بَلْ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلاَ مَرَّتَیْنِ حَتَّی ذَکَرَ سَبْعًا۔
(٣٩٠٤٧) حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں دمشق کی جامع مسجد میں تھا کہ لوگ ستر خارجیوں (حروریوں) کے سر لے کر آئے۔ ان سروں کو مسجد کی سیڑھیوں پر نصب کردیا گیا۔ جب حضرت ابو امامہ تشریف لائے اور ان کے سروں کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں۔ آسمان کے نے چر مارے جانے والے یہ بدترین مخلوق ہیں۔ اور جنہیں انھوں نے قتل کیا ہے وہ آسمان کے نیچے سب سے بہترین مقتول ہیں۔ پھر وہ روئے اور میری طرف دیکھا اور مجھ سے فرمایا کہ اے ابو غالب ! تم ان لوگوں کے شہر سے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں محفوظ رکھا۔ پھر فرمایا کہ کیا تم سورة آل عمران پڑھتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :{ مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ فَأَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَائَ تَأْوِیلِہِ ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلاَّ اللَّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ } اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَأَمَّا الَّذِینَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ أَکَفَرْتُمْ بَعْدَ إیمَانِکُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ } حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوامامہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں ! ان پر رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں۔ وہ اہل اسلام میں سے تھے۔ بنی اسرائیل والے اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور اس امت میں ایک فرقے کا اضافہ ہوگا، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے بڑی جماعت کے۔ ان پر وہ ہے جس کے وہ مکلف بنائے گئے اور تم پر وہ ہے جس کے تم مکلف بنائے گئے۔ اگر تم اس بڑی جماعت کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور پیغام دینے والے پر تو بات کو کھول کھول کر بیان کردینا ہی ہوتا ہے۔ بات کو سننا اور اطاعت کرنا فرقہ میں پڑنے اور معصیت سے بہتر ہے۔
ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اے ابو امامہ ! یہ بات آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر میں یہ بات اپنی رائے سے کہوں تو دین کے معاملے میں جرأت کرنے والا بن جاؤں گا ! میں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک ، دو مرتبہ نہیں بلکہ سات مرتبہ سنی ہے۔