hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 39047

.

ابن أبي شيبة

39047
Ibn Abi Shaybah
(۳۹۰۴۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ الْوَاسِطِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : نَہَی عَلِیٌّ أَصْحَابَہُ أَنْ یَبسُطُوا عَلَی الْخَوَارِجِ حَتَّی یُحْدِثُوا حَدَثًا ، فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللہِ بْنِ خَبَّابٍ فَأَخَذُوہُ ، فَمَرَّ بَعْضُہُمْ عَلَی تَمْرَۃٍ سَاقِطَۃٍ مِنْ نَخْلَۃٍ فَأَخَذَہَا فَأَلْقَاہَا فِی فِیہِ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : تَمْرَۃُ مُعَاہَدٍ ، فَبِمَ اسْتَحْلَلْتہَا فَأَلْقَاہَا مِنْ فِیہِ ، ثُمَّ مَرُّوا عَلَی خِنْزِیرٍ فَنَفَحَہُ بَعْضُہُمْ بِسَیْفِہِ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : خِنْزِیرُ مُعَاہَدٍ ، فَبِمَ اسْتَحْلَلْتہ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : أَلاَ أَدُلُّکُمْ عَلَی مَا ہُوَ أَعْظَمُ عَلَیْکُمْ حُرْمَۃً مِنْ ہَذَا ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ: أَنَا ، فَقَدَّمُوہُ فَضَرَبُوا عُنُقہ، فَأَرْسَلَ إلَیْہِمْ عَلِیٌّ أَنْ أَقِیدُونَا بِعَبْدِ اللہِ بْنِ خَبَّابٍ ، فَأَرْسَلُوا إلَیْہِ : وَکَیْفَ نُقِیدُک وَکُلُّنَا قَتَلَہُ ، قَالَ: أَوَکُلُّکُمْ قَتَلَہُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَہُ أَنْ یبْسُطُوا عَلَیْہِمْ ، قَالَ : وَاللہِ لاَ یُقْتَلُ مِنْکُمْ عَشَرَۃٌ وَلاَ یَفْلِتُ مِنْہُمْ عَشَرَۃٌ ، قَالَ : فَقَتَلُوہُمْ ، فَقَالَ : اطْلُبُوا فِیہِمْ ذَا الثُّدَیّۃِ ، فَطَلَبُوہُ فَأُتِیَ بِہِ ، فَقَالَ : مَنْ یَعْرِفُہُ ، فَلَمْ یَجِدُوا أَحَدًا یَعْرِفُہُ إِلاَّ رَجُلاً ، قَالَ : أَنَا رَأَیْتہ بِالْحِیرۃ ، فَقُلْتُ لَہُ : أَیْنَ تُرِیدُ ، قَالَ : ہَذِہِ ، وَأَشَارَ إِلَی الْکُوفَۃِ ، وَمَالِی بِہَا مَعْرِفَۃٌ ، قَالَ : فَقَالَ عَلِیٌّ : صَدَقَ ہُوَ مِنَ الْجَانِّ۔ (ابوعبید ۴۷۵۔ دارقطنی ۱۳۱)
(٣٩٠٤٨) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے اپنے ساتھیوں کو خوارج کے ساتھ معرکہ آرائی سے اس وقت تک منع کیا جب تک وہ خود چھیڑ خانی نہ کریں۔ چنانچہ خوارج حضرت عبداللہ بن خباب کے پاس سے گزرے اور انھیں پکڑ لیا۔ پھر ان میں سے ایک شخص ایک کھجور کے درخت سے گری ہوئی کھجور کو اٹھا کر کھانے لگا تو ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کی کھجور ہے تم اسے کیسے حلال سمجھتے ہو ؟ چنانچہ اس نے کھجور منہ سے پھینک دی۔ پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے تو ایک آدمی نے اسے اپنی تلوار ماری۔ ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کا خنزیر ہے تم اسے اپنے لیے کیسے حلال سمجھتے ہو ؟ حضرت عبداللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں ان چیزوں سے زیادہ قابل احترام چیز کا نہ بتاؤں ؟ انھوں نے کہا بتائیے، حضرت عبداللہ بن خباب نے فرمایا کہ میں ہوں۔ وہ آگے بڑھے اور حضرت عبداللہ بن خباب کی گردن کاٹ ڈالی۔
پھر حضرت علی نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ حضرت عبداللہ بن خباب کے قاتل کو میری طرف بھیج دو ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم ان کے قاتل آپ کو کیسے بھیجیں، ہم سب نے انھیں قتل کیا ہے۔ حضرت علی نے پوچھا کہ کیا تم سب نے انھیں قتل کیا ہے ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی نے اللہ اکبر کہا اور پھر اپنے ساتھیوں کو ان پر چڑھائی کا حکم دے دیا۔ اور فرمایا خدا کی قسم ! تم میں سے دس آدمی قتل نہیں ہوں گے اور ان میں سے دس آدمی باقی نہیں بچیں گے۔ پس لوگوں نے ان سے قتال کیا۔ حضرت علی نے انھیں حکم دیا کہ ان میں ذوالثدیہ کو تلاش کرو۔ لوگوں نے اسے تلاش کیا اور اسے حضرت علی کے پاس لایا گیا انھوں نے پوچھا کہ اسے کون جانتا ہے۔ پھر صرف ایک آدمی ملا جو اسے جانتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے اسے حیرہ میں دیکھا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو ؟ اس نے کہا کہ اس طرف، اور پھر اس نے کوفہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ مجھے اس کا علم نہ تھا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ یہ جنوں میں سے ہے، اس نے سچ کہا۔