(۳۹۰۸۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالضَّحَّاکُ بْنُ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : بَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْسِمُ مَغْنَمًا یَوْمَ حنین ، فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ یُقَالُ لَہُ ذُو الْخُوَیْصِرَۃِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اعْدِلْ ، فَقَالَ : ہَاکَ لَقَدْ خِبْت وَخَسِرْت إِنْ لَمْ أَعْدِلْ ، فَقَالَ عُمَرُ : دَعْنِی یَا رَسُولَ اللہِ أَقْتُلُہُ ، فَقَالَ : لاَ ، إِنَّ لِہَذَا أَصْحَابًا یَخْرُجُونَ عِنْدَ اخْتِلاَفٍ مِنَ النَّاسِ ، یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ ، تَحْقِرُونِ صَلاَتَکُمْ مَعَ صَلاَتِہِمْ وَصِیَامَکُمْ مَعَ صِیَامِہِمْ ، آیَتُہُمْ رَجُلٌ مِنْہُمْ کَأَنَّ یَدَہُ ثَدْیُ الْمَرْأَۃِ ، وَکَأَنَّہَا بَضْعَۃٌ تَدَرْدَرُ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَسَمِعَ أُذُنِی مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ وَبَصَرَ عَیْنِی مَعَ عَلِیٍّ حِینَ قَتَلَہُمْ ، ثُمَّ اسْتَخْرَجَہُ فَنَظَرْتُ إلَیْہِ۔ (بخاری ۶۱۶۳۔ احمد ۶۵)
(٣٩٠٨٧) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جسے ذوخویصرہ کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! انصاف کیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ تیرا ناس ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو مریی ناکامی اور نامرادی میں کیا شک ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئے، میں اسے قتل کردوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، اس کے کچھ ساتھی ہیں جو لوگوں کے اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ تم ان کی نماز کے سامنے اپنی نماز کو حقیر سمجھو گے، تم ان کے روزے کے سامنے اپنے روزے کو حقیر سمجھو گے۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں عورت کے پستان جیسے ہاتھ والا ایک آدمی ہوگا، جو گوشت کے ٹکڑے کی طرح لٹک رہا ہوگا۔ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ اس بات کو حنین کے دن میرے کانوں نے سنا اور حضرت علی کے ہمراہ خوارج کے خلاف جنگ میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ اس کو نکالا گیا اور میں نے اس علامت والے شخص کو دیکھا۔