hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 39087

.

ابن أبي شيبة

39087
Ibn Abi Shaybah
(۳۹۰۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ زوذی أَبِی کَثِیرَۃَ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِیٌّ یَوْمًا ، فَقَامَ الْخَوَارِجُ فَقَطَعُوا عَلَیْہِ کَلاَمُہُ ، قَالَ : فَنَزَلَ فَدَخَلَ وَدَخَلْنَا مَعَہُ ، فَقَالَ: أَلاَ إنِّی إنَّمَا أُکِلْت یَوْمَ أُکِلَ الثَّوْرُ الأَبْیَضُ ، ثُمَّ قَالَ : مَثَلِی مَثَلُ ثَلاَثَۃِ أَثْوَارٍ وَأَسَدٍ اجْتَمَعْن فِی أَجَمَۃٍ : أَبْیَضَ وَأَحْمَرَ وَأَسْوَدَ ، فَکَانَ إِذَا أَرَادَ شَیْئًا مِنْہُنَّ اجْتَمَعْن ، فَامْتَنَعَنْ مِنْہُ ، فَقَالَ لِلأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ : إِنَّہُ لاَ یَفْضَحُنَا فِی أَجَمَتِنَا ہَذِہِ إِلاَّ مَکَانُ ہَذَا الأَبْیَضِ ، فَخَلِّیَا بَیْنِی وَبَیْنَہُ حَتَّی آکُلَہُ ، ثُمَّ أَخْلُو أَنَا وَأَنْتُمَا فِی ہَذِہِ الأَجَمَۃِ ، فَلَوْنُکُمَا عَلَی لَوْنِی وَلَوْنِی عَلَی لَوْنِکُمَا قَالَ : فَفَعَلاَ قَالَ : فَوَثَبَ عَلَیْہِ فَلَمْ یُلْبِثْہُ أَنْ قَتَلَہُ ۔ ۲۔ قَالَ : فَکَانَ إِذَا أَرَادَ أَحَدُہُمَا اجْتَمَعَا ، فَامْتَنَعَا مِنْہُ ، فَقَالَ لِلأَحْمَرِ : یَا أَحْمَرُ ، إِنَّہُ لاَ یُشْہِرُنَا فِی أَجَمَتِنَا ہَذِہِ إِلاَّ مَکَانُ ہَذَا الأَسْوَد ، فَخَلِّ بَیْنِی وَبَیْنَہُ حَتَّی آکُلَہُ ، ثُمَّ أَخْلُو أَنَا وَأَنْتَ ، فَلَوْنِی عَلَی لَوْنِکَ وَلَوْنُک عَلَی لَوْنِی ، قَالَ : فَأَمْسَکَ عَنْہُ فَوَثَبَ عَلَیْہِ فَلَمْ یُلْبِثْہُ أَنْ قَتَلَہُ ۔ ۳۔ ثُمَّ لَبِثَ مَا شَائَ اللَّہُ ، ثُمَّ قَالَ لِلأَحْمَرِ : یَا أَحْمَرُ ، إنِّی آکُلُک ، قَالَ : تَأْکُلُنِی ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : إِمَّا لاَ فَدَعَنْی حَتَّی أُصَوِّتَ ثَلاَثَۃَ أَصْوَاتٍ ، ثُمَّ شَأْنُک بِی ، قَالَ : فَقَالَ : أَلاَ إنِّی إنَّمَا أُکِلْت یَوْمَ أُکِلَ الثَّوْرُ الأَبْیَضُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ عَلِیٌّ : أَلاَ وَإِنِّی إنَّمَا وَہَنْتُ یَوْمَ قُتِلَ عُثْمَان۔
(٣٩٠٨٨) حضرت عمیر بن زوذی ابو کثیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ایک دن ہمیں خطبہ دیا، اس خطبہ میں خوارج کھڑے ہوئے اور ان کی بات کو کاٹ دیا۔ وہ نیچے اترے اور حجرے میں تشریف لے گئے، ہم بھی ان کے ساتھ اندر چلے گئے۔ انھوں نے فرمایا کہ میں اس دن کھایا گیا جس دن سفید بیل کھایا گیا۔ پھر فرمایا کہ میری مثال ان تین بیلوں اور شیر کی سی ہے جو ایک کچھار میں جمع ہوگئے، ایک بیل سفید تھا، ایک سرخ اور ایک کالا، جب بھی شیر ان بیلوں کو کھانے کی کوشش کرتا وہ تینوں جمع ہوجاتے اور شیر کا مقابلہ کرتے اور شیر کو باز رکھتے۔ ایک دن شیر نے سرخ اور کالے بیل سے کہا کہ سفید بیل کا رنگ اس کچھار میں ہماری ذلت کا سبب ہے، تم دونوں ایسا کرو کہ مجھے وہ بیل کھا لینے دو ، پھر ہم تینوں آرام سے اس کچھار میں رہیں گے، میرا اور تمہارا رنگ بھی ایک جیسا ہے۔ چنانچہ وہ دونوں بیل اس کے جھانسے میں آگئے۔ اس بات کو منظور کرلیا اور شیر نے فورا حملہ کرکے سفید بیل کا کام تمام کردیا۔
(٢) پھر اس کے بعد جب کبھی وہ ان دونوں بیلوں میں سے کسی ایک کو مارنا چاہتا تو وہ دونوں جمع ہوجاتے اور اسے باز رکھتے۔ پس ایک دن شیر نے سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل ! اس جگہ کالے کے ہونے کی وجہ سے ہماری عزت خراب ہورہی ہے۔ تم مجھے اجازت دو کہ میں اسے کھا لوں، پھر تم اور میں یہاں اکیلے رہیں گے، میرا رنگ تمہارے جیسا ہے اور تمہارا رنگ میرے جیسا ہے۔ پس سرخ بیل نے اسے اجازت دے دی اور اس نے کالے بیل کا قصہ تمام کردیا۔
(٣) پھر وہ کچھ دیر تک رکا رہا اور پھر سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل ! میں تجھے کھاؤں گا۔ اس نے کہا کہ کیا تو مجھے کھائے گا ! اس نے کہا ہاں میں تجھے کھاؤں گا۔ بیل نے کہا کہ اگر تو نے مجھے کھانا ہی ہے تو مجھے تین آوازیں نکالنے کی اجازت دے دے۔ پھر تم جو چاہو کرلینا۔ پھر بیل نے کہا کہ میں تو اسی دن کھایا گیا تھا جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا۔
(٤) پھر حضرت علی نے فرمایا کہ یاد رکھو جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا میں اسی دن کمزور ہوگیا تھا۔