(۴۵۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : صَلَّی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُ الْقَوْمِ : حَدَثَ فِی الصَّلاَۃ شَیْئٌ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاکَ ؟ قَالُوا : لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ، فَقَالَ : أَکَذَلِکَ یَا ذَا الْیَدَیْنِ ؟ وَکَانَ یُسَمَّی ذا الشِّمَالَیْنِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَصَلَّی رَکْعَۃً وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔
(٤٥٤٦) حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو تین رکعات نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی نے کہا کہ کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے صرف تین ہی رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا اے ذو الدمین ! (انہی کو ذو الشمالین بھی کہا جاتا تھا) کیا واقعی ایسا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا جی ہاں ۔ اس پر نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکعت نماز پڑھائی اور پھر دو سجدے کئے۔