(۴۵۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنِ أبی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِی ثَلاَثِ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ دَخَلَ فَقَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ، یُقَالُ لَہُ: الْخِرْبَاقُ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَذَکَّرَ لَہ الَّذِی صَنَعَ ، فَخَرَجَ مُغْضَبًا یَجُرُّ رِدَائَہُ حَتَّی انْتَہَی إلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : صَدَقَ ہَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَصَلَّی تِلْکَ الرَّکْعَۃَ ثُمَّ سَلَّمَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔
(٤٥٤٧) حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر حجرہ مبارکہ میں تشریف لے گئے۔ خرباق نامی ایک آدمی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آج ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصے سے اپنی چادر مبارک گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا یہ سچ کہتا ہے ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔