hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 4789

.

ابن أبي شيبة

4789
Ibn Abi Shaybah
(۴۷۸۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ أَبِی قَتَادَۃَ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، قَالَ : قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوْ عَرَّسْت بِنَا ، فَقَالَ : إنِّی أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاَۃ ، فَمَنْ یُوقِظُنَا لِلصَّلاَۃِ ؟ قَالَ : فَقَالَ بِلاَلٌ : أَنَا ، یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَعَرَّسَ بِالْقَوْمِ وَاضْطَجَعُوا ، وَاسْتَنَدَ بِلاَلٌ إلَی رَاحِلَتِہِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ ، وَاسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : یَا بِلاَلُ ، أَیْنَ مَا قُلْتَ لَنَا ؟ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ مَا أُلْقِیَتْ عَلَیَّ نَوْمَۃٌ مِثْلہَا ، قَالَ : فَقَالَ : إنَّ اللَّہَ قَبَضَ أَرْوَاحَکُمْ حِینَ شَائَ ، وَرَدَّہَا عَلَیْکُمْ حِینَ شَائَ ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَہُمْ فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِہِمْ ، وَتَوَضَّؤُوا وَارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، فَصَلَّی بِہِمُ الْفَجْرَ۔ (بخاری ۵۹۵۔ ابوداؤد ۴۴۱)
(٤٧٨٩) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ رات کو ہم نے کہا کہ یارسول اللہ ! اگر اس وقت ہم پڑاؤ ڈال لیں تو اچھا ہو۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے تم نماز کے وقت میں سوئے رہو گے۔ ہمیں نماز کے لیے کون جگائے گا ؟ حضرت بلال نے کہا کہ میں جگاؤں گا۔ چنانچہ لوگوں نے پڑاؤ ڈالا اور سو گئے۔ حضرت بلال نے اپنی سواری سے ٹیک لگائی اور ان پر نیند غالب آگئی۔ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہوچکا تھا۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے بلال ! جو بات تم نے کہی تھی وہ کیا ہوئی ؟ انھوں نے عرض کیا کہ جیسی نیند مجھے آج آئی اب سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے قبض کرلیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔ پھر آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو اپنی ضروریات کے لیے منتشر ہونے کا حکم دیا اور انھوں نے وضو کیا۔ جب سورج بلند ہوگیا تو آپ نے انھیں فجر کی نماز پڑھائی۔