(۴۷۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمُبَارَکِ ، عَنْ یَحْیَی ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَائَ عُمَرُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فَجَعَلَ یَسُبُّ کُفَّارَ قُرَیْشٍ وَیَقُولُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا صَلَّیْتُ الْعَصْرَ حَتَّی کَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِیبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَأَنَا وَاللَّہِ مَا صَلَّیْتُ بَعْدُ ، فَنَزَلَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ بَعْدَ مَا صَلَّی الْعَصْرَ۔ (بخاری ۹۴۵۔ مسلم ۴۳۸)
(٤٧٩٠) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ غزوہ ٔ خندق میں حضرت عمر قریشی سرداروں کو برا بھلا کہتے ہوئے آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہوگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں نے بھی ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو فرمایا اور سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور عصر کے بعد مغرب کی نماز ادا فرمائی۔