hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 4791

.

ابن أبي شيبة

4791
Ibn Abi Shaybah
(۴۷۹۱) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی رَجَائٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ ، وَإِنَّا سَرَیْنَا اللَّیْلَۃَ حَتَّی إذَا کَانَ آخِرُ اللَّیْلِ وَقَعْنَا تِلْکَ الْوَقْعَۃَ ، وَلاَ وَقْعَۃَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَی مِنْہَا ، فَمَا أَیْقَظَنَا إِلاَّ حَرُّ الشَّمْسِ ، فَجَعَلَ عُمَرُ یُکَبِّرُ ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ شَکَا النَّاسُ إلَیْہِ مَا أَصَابَہُمْ ، فَقَالَ : لاَ ضَیْرَ ، قَالَ : فَارْتَحَلُوا فَسَارُوا غَیْرَ بَعِیدٍ ، ثُمَّ نَزَلَ فَنُودِیَ بِالصَّلاَۃ ، فَصَلَّی بِالنَّاسِ۔ (بخاری ۳۴۴۔ مسلم ۴۷۶)
(٤٧٩١) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ہم نے رات کو سفر کیا، رات کے آخری حصہ میں ہم نے پڑاؤ ڈالا اور اس پڑاؤ سے زیادہ محبوب کوئی پڑاؤ مسافر کے لیے نہیں ہوتا۔ پھر ہم ایسا سوئے کہ سورج کی گرمی نے ہمیں بیدار کیا۔ حضرت عمر اس موقع پر تکبیر کہنے لگے۔ جب لوگ بیدار ہوئے تو انھوں نے اس واقعہ کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ یہاں سے چل پڑو۔ ابھی تھوڑا دور ہی گئے تھے کہ پھر قیام ہوا اور اذان دی گئی، اور نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔