(۵۳۴۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قدِمْنَا الْمَدِینَۃَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فَأَمَرْتُ أَصْحَابِی أَنْ یَرْتَحِلُوا ، ثُمَّ أَتَیْتُ الْمَسْجِدَ ، فَجَلَسْتُ قَرِیبًا مِنِ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِی ، فَجَعَلَ یُحَدِّثُنِی وَالإِمَامُ یَخْطُبُ ، فَعلْنَا کَذَا وَکَذَا ، فَلَمَّا أَکْثَرَ قُلْتُ لَہُ : اُسْکُتْ ، فَلَمَّا قَضَیْنَا الصَّلاَۃ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لْاِبْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنْتَ فَلاَ جُمُعَۃَ لَکَ ، وَأَمَّا صَاحِبُک فَحِمَارٌ۔
(٥٣٤٦) حضرت علقمہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن مدینہ آئے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کوچ کرجائیں اور میں مسجد میں آکر حضرت ابن عمر کے قریب بیٹھ گیا۔ اتنے میں میرے ساتھیوں میں سے ایک آدمی آیا اور دورانِ خطبہ مجھ سے بات کرنے لگا کہ ہم نے ایسے ایسے کیا۔ جب اس نے زیادہ بات کی تو میں نے اس سے کہا کہ خاموش ہوجاؤ۔ جب ہم نے نماز پوری کرلی تو میں نے اس بات کا حضرت ابن عمر سے ذکر کیا۔ انھوں نے فرمایا کہ تمہارا جمعہ نہیں ہوا اور تمہارا وہ ساتھی تو گدھا ہے۔