(۵۳۴۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُد بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، أَوِ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، سَمِعَ أَحَدُہُمَا مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آیَۃً یَقْرَؤُہَا وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، قَالَ : فَقَالَ لِصَاحِبِہِ : مَتَی أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الأَیَۃُ ؟ قَالَ : فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ ، قَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لاَ جُمُعَۃَ لَکَ ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، قَالَ : فَقَالَ : صَدَقَ عُمَرُ۔
(٥٣٤٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر یا حضرت زبیر بن عوام میں سے ایک نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جمعہ کے دن منبر پر ایک آیت کی تلاوت کرتے سنا تو اپنے ساتھی سے سوال کیا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی ؟ جب انھوں نے جمعہ کی نماز ادا کرلی تو حضرت عمر بن خطاب نے ان سے فرمایا کہ تمہارا جمعہ نہیں ہوا۔ پھر وہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور ان سے اس بات کا ذکر کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عمر سچ کہتے ہیں۔