(۵۸۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِیِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِی رَمْلَۃَ الشَّامِیِّ ، قَالَ : شَہِدْتُ مُعَاوِیَۃَ یَسْأَلُ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ : ہَلْ شَہِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِیدَیْنِ اجْتَمَعَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ: فَکَیْفَ صَنَعَ ؟ قَالَ : صَلَّی الْعِیدَ ، ثُمَّ رَخَّصَ فِی الْجُمُعَۃِ ، قَالَ : مَنْ شَائَ أَنْ یُصَلِّیَ فَلْیُصَلِّ۔ (ابوداؤد ۱۰۶۳۔ احمد ۴/۳۷۲)
(٥٨٩٦) حضرت ابن ابی رملہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ کو دیکھا کہ انھوں نے حضرت زید بن ارقم سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسا دن گذارا جس میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آئے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں۔ حضرت معاویہ نے پوچھا کہ اس دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا عمل تھا۔ حضرت زید نے فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید کی نماز پڑھائی اور جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا کہ جس کا دِل چاہے پڑھ لے۔