(۵۸۹۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ الْعِیدَانِ فِی یَوْمٍ ، فَقَامَ الْحَجَّاجُ فِی الْعِیدِ الأَوَّلِ ، فَقَالَ : مَنْ شَائَ أَنْ یُجَمِّعَ مَعَنَا فَلْیُجَمِّعْ ، وَمَنْ شَائَ أَنْ یَنْصَرِفَ فَلْیَنْصَرِفْ ، وَلاَ حَرَجَ ، فَقَالَ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ ، وَمَیْسَرَۃُ : مَا لَہُ ، قَاتَلَہُ اللَّہُ تَعَالَی مِنْ أَیْنَ سَقَطَ عَلَی ہَذَا ؟۔
(٥٨٩٧) حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے۔ حجاج نے عید کی نماز پڑھائی اور کہا جو شخص ہمارے ساتھ جمعہ پڑھنا چاہے پڑھے اور جو جانا چاہے چلا جائے۔ چلے جانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس پر حضرت ابو البختری اور حضرت میسرہ نے کہا کہ اللہ اسے مارے یہ بات اسے کہاں سے پتا چل گئی۔