(۵۹۴۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَلمِ بْنِ أَبِی الذَّیَّالِ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الرَّجُلِ یُسْبَقُ بِرَکْعَۃٍ فَیُحْدِثُ الإِمَام، فَیَأْخُذُ بِیَدِ الَّذِی سُبِقَ فَیُقَدِّمُہُ، کَیْفَ یَصْنَعُ؟ قَالَ: یُصَلِّی رَکْعَۃً وَیَجْلِسُ، ثُمَّ یَبْنِی عَلَی صَلاَۃِ الْقَوْمِ، فَإِذَا أَتَمَّ بِہِمْ أَرْبَعًا جَلَسَ فَتَشَہَّدَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِ رَجُلٍ فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ الرَّجُلُ فَصَلَّی رَکْعَتَہُ الَّتِی سُبِقَ بِہَا۔
(٥٩٤٥) حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کی ایک رکعت چھوٹ گئی، وہ نماز میں شامل ہوا، امام کا وضو ٹوٹ گیا تو اس نے اس مقتدی کا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے کردیا، اب وہ کیا کرے ؟ حضرت حسن نے فرمایا کہ وہ ایک رکعت پڑھ کر بیٹھ جائے، پھر لوگوں کی نماز پر بنا کرے۔ جب انھیں چار رکعات پڑھا دے تو بیٹھ کر تشہد پڑھے، پھر ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے کر دے، جب وہ سلام پھیرے تو یہ کھڑے ہو کر اپنی چھوٹی ہوئی رکعت پڑھ لے۔