(۶۰۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ ، عَنْ جَدِّہِ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَۃَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی أَسْمَائَ وَہِیَ تَقْرَأُ : {فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ} قَالَ : فَوَقَفَتْ عَلَیْہَا ، فَجَعَلَتْ تَسْتَعِیذُ وَتَدْعُو ۔ قَالَ عَبَّادُ : فَذَہَبْتُ إِلَی السُّوقِ ، فَقَضَیْتُ حَاجَتِی ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، وَہِیَ فِیہَا بَعْدُ تَسْتَعِیذُ وَتَدْعُو۔
(٦٠٩٢) حضرت عباد بن حمزہ کہتے ہیں کہ میں حضرت اسماء کے پاس حاضر ہوا، وہ اس آیت کی تلاوت کر رہی تھیں { فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ } اس آیت پر وہ ٹھہر گئیں اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے لگیں اور دعا کرنے لگیں۔ حضرت عباد کہتے ہیں کہ میں بازار چلا گیا، میں اپنی ضرورت پوری کر کے واپس آیا تو وہ پھر بھی پناہ مانگ رہی تھیں اور دعا کر رہی تھیں۔