(۶۱۶۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی أَبِی أَسِیْد ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوکٌ ، فَدَعَوْتُ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِمْ ؛ أَبُو ذَرٍّ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَحُذَیْفَۃُ ، فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃ ، فَتَقَدَّمَ أَبُو ذَرٍّ ، فَقَالَ : وَرَائَک ، فَالْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِہِ ، فَقَالَ : کَذَلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَقَدَّمُونِی ، فَصَلَّیْتُ بِہِمْ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوکٌ۔
(٦١٦٠) حضرت ابو سعید مولی ابی اسید کہتے ہیں کہ میں ایک غلام تھا، جب میری شادی ہوئی تو میں نے کچھ صحابہ کرام کی دعوت کی جن میں حضرت ابو ذر، حضرت ابن مسعود اور حضرت حذیفہ بھی تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو حضرت ابو ذر آگے ہوئے تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے ان سے کہا کہ آپ پیچھے تشریف لے آئیے۔ انھوں نے کہا کیا واقعی ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا ہاں۔ پھر انھوں نے مجھے آگے کیا اور میں نے غلام ہونے کے باوجود انھیں نماز پڑھائی۔