(۶۱۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَبِی حَبِیبَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَؤُمُّ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ وَہُوَ مُکَاتَبٌ ، وَفِیہِمْ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ ، وَسَلَمَۃُ بْنُ سَلاَمَۃَ ، فَأَرَادُوا تَأْخِیرَہُ ، فَلَمَّا سَمِعَا قِرَائَتَہُ ، قَالاَ : أَمِثْلُ ہَذَا یُؤَخَّرُ ؟۔
(٦١٦١) حضرت داؤد بن حصین کہتے ہیں کہ حضرت ابو سفیان ایک مکاتب غلام تھے اور بنو عبد الاشہل کی امامت کیا کرتے تھے۔ ان میں کچھ صحابہ کرام بھی تھے جیسے محمد بن مسلمہ اور سلمہ بن سلامہ۔ ایک مرتبہ لوگوں نے انھیں امامت سے ہٹانا چاہا تو ان دونوں حضرات نے ان کی قراءت سن کر فرمایا کہ کیا ان جیسے لوگوں کو امامت سے ہٹایا جاسکتا ہے۔