(۶۳۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا کُفَّ بَصَرُہُ أَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ لَہُ : إِنْ صَبَرْتَ لِی سَبْعًا لاَ تُصَلِّی إِلاَّ مُسْتَلْقِیًا دَاوَیْتُک ، وَرَجَوْتُ أَنْ تَبْرَأَ عَیْنُک ۔ قَالَ: فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَی عَائِشَۃَ ، وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَغَیْرِہِمَا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَکُلُّہُمْ یَقُولُونَ: أَرَأَیْتَ إِنْ مِتَّ فِی ہَذِہِ السَّبْعِ، کَیْفَ تَصْنَعُ بِالصَّلاَۃ؟ قَالَ: فَتَرَکَ عَیْنَیْہِ، فَلَمْ یُدَاوِہَا۔
(٦٣٤٣) حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس کی بینائی ختم ہوگئی تو ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اگر آپ سات دن تک لیٹ کر نماز پڑھنے پر صبر کرلیں تو میں آپ کا علاج کرسکتا ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ کی آنکھیں ٹھیک ہوجائیں گی۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت عائشہ ، حضرت ابوہریرہ اور دوسرے صحابہ کرام کے پاس آدمی بھیج کر ان سے مشورہ کیا۔ سب نے یہی فرمایا کہ اگر ان سات دنوں میں آپ کا انتقال ہوگیا تو آپ کی نمازوں کا کیا ہوگا ؟ اس پر انھوں نے اپنی آنکھوں کا علاج نہ کروایا۔