(۶۹۶۱) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، عْن أَبِی الْحَوْرَائِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ، قَالَ : عَلَّمَنِی جَدِّی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَلِمَاتٍ أَقُولُہُنَّ فِی قُنُوتِ الْوِتْرِ : اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْتَ ، وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِی فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا أَعْطَیْتَ ، وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ ، فَإِنَّک تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ، إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ (ابن ماجہ ۱۱۷۸۔ ابو یعلی ۶۷۶۵)
(٦٩٦١) حضرت حسن بن علی فرماتے ہیں کہ مجھے میرے نانا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وتروں میں پڑھنے کے لیے یہ دعا سکھائی (ترجمہ) اے اللہ ! مجھے من جملہ ان لوگوں کے عطا فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا، اور من جملہ ان لوگوں کے عافیت عطا فرما جنہیں تو نے عافیت عطا فرمائی۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا ہے اس میں برکت عطا فرما، جس بات کا تو نے فیصلہ کردیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا، کیونکہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے تیرے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ جس نے تجھ سے دوستی کی وہ ذلیل نہیں ہوسکتا۔ اے ہمارے رب ! تو بابرکت ہے اور بلند ہے۔