(۶۹۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی قُنُوتِ الْوِتْرِ : لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَمِلْئَ الأَرْضِینَ السَّبْعِ ، وَمِلْئَ مَا بَیْنَہُمَا مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَہْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ ، حَقَّ مَا قَالَ الْعَبْدُ ، کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ ، لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ ، وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِِنْکَ الْجَدُّ۔
(٦٩٦٢) حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس وتر کی قنوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے (ترجمہ) اے اللہ ! تیرے لیے ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان بھر کر اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ سب بھر کر تعریف ہے۔ تعریف اور بزرگی کے حامل لوگوں کی تعریف ہم بھی تیرے لیے بیان کرتے ہیں۔ سب سے سچی بات وہ ہے جو تیرے بندے نے کہی اور ہم سب تیرے بندے ہے : جو کچھ تو دینا چاہے اس سے کوئی روک نہیں سکتا، جس سے تو منع کردے وہ کوئی عطا نہیں س کرسکتا، کسی مال والے کا مال تیرے مقابلے میں اس کے کسی کام نہیں آسکتا۔