(۷۱۰۴) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ یَقْنُتُ فِی الْفَجْرِ یَقُولُ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ
اللَّہُمَّ إنَّا نَسْتَعِینُک وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْک وَنُثْنِی عَلَیْک الْخَیْرَ ، وَلاَ نَکْفُرُک۔
ثُمَّ قَرَأَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ اللَّہُمَّ إیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَک نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَإِلَیْک نَسْعَی وَنَحْفِدُ نَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَک إنَّ عَذَابَک الْجِدَّ بِالْکَافِرینَ مُلْحِقٌ اللَّہُمَّ عَذِّبْ کَفَرَۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِک۔
(٧١٠٤) حضرت عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے سنا۔ انھوں نے پہلے یہ کہا (ترجمہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، تیری خیر کی تعریف کرتے ہں ہ، ترمی ناشکری نہیں کرتے۔ پھر انھوں نے یہ پڑھا (ترجمہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم، اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے لیے نماز پڑھتے ہیں، تیرے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تیری طرف چلتے ہیں، تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں، تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بیشک تیرا عذاب کافروں تک پہنچنے والا ہے۔ اے اللہ ! ان اہل کتاب کافروں کو عذاب میں مبتلا فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں۔