(۷۵۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَبِیَدِہِ عُرْجُونٌ وَکَانَ یُحِبُّ الْعَرَاجِینَ فَرَأَی نُخَامَۃً فِی الْقِبْلَۃِ فَحَکَّہَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إنَّ أَحَدَکُمْ إذَا قَامَ یُصَلِّی اسْتَقْبَلَہُ اللَّہُ ، وَعَنْ یَمِینِہِ مَلَکٌ أَفَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ یَسْتَقْبِلَہُ الرَّجُلُ فَیَبْزُقَ فِی وَجْہِہِ فَلاَ یَبْزُقْ أَحَدُکُمْ فِی الْقِبْلَۃِ ، وَلاَ عَنْ یَمِینِہِ وَلْیَبْزُقْ تَحْتَ رِجْلِہِ الْیُسْرَی ، أَوْ عَنْ یَسَارِہِ ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِہِ بَادِرَۃٌ فَلیَقُل ہَکَذَا ، یَعْنِی فِی ثَوْبِہِ۔ (ابوداؤد ۴۸۱۔ احمد ۳/۲۴)
(٧٥٢٧) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے تو آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی، آپ کھجور کی شاخوں کو پسند فرمایا کرتے تھے۔ آپ نے قبلہ کی جانب تھوک دیکھی تو اسے کھرچ دیا۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے لوگو ! جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کرتا ہے۔ اور اس کے دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ کسی آدمی کی طرف منہ کرکے اس پر تھوکے ؟ پس تم نہ تو قبلہ کی طرف تھوکو اور نہ ہی اپنے دائیں طرف تھوکو ۔ اگر کسی کو تھوکنا ہی ہے تو اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے یا اپنی بائیں جانب تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں تھو ک لے۔