(۷۵۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی نُخَامَۃً فِی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ بِوَجْہِہِ ، فَقَالَ : مَا بَالُ أَحَدِکُمْ یَقُومُ مُسْتَقْبِلَہ رَبُّہُ فَیَتَنَخَّعُ أَمَامَہُ أَیحب أَحَدُکُم أَن یُستقبل فَیُتَنَخَّعَ فِی وَجْہِہِ ؟ إذَا انتَخَعَ أَحَدُکُمْ فَلْیَتَنَخَّعْ ، عَنْ یَسَارِہِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمہِ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَلْیَقُلْ ہَکَذَا فِی ثَوْبِہِ ، ثُمَّ أَرَانَا إسْمَاعِیلُ أَنَّہُ یَبْزُقُ فِی ثَوْبِہِ ، ثُمَّ یَدْلُکُہُ۔ (مسلم ۳۸۹۔ نسائی ۲۹۸)
(٧٥٢٨) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک دیکھی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہوا جو اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے ہیں اور پھر اس کے سامنے تھوکتے ہیں ؟ ! کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ کوئی اس کی جانب منہ کرکے تھوکے ؟ اگر کسی کو تھوکنا ہی ہے تو اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے یا اپنی بائیں جانب تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں تھو ک لے۔ یہ فرما کر راوی اسماعیل نے اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل کر دکھایا۔