(۷۶۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا بِسَّام ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ، عَنِ الصَّلاَۃ مَعَ الأُمَرَائِ ، فَقَالَ : صَلِّ مَعَہُمْ فَإِنَّا نُصَلِّی مَعَہُمْ قَدْ کَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ یَبْتَدِرَانِ الصَّلاَۃ خَلْفَ مَرْوَانَ ، قَالَ : قُلْتُ : إنَّ النَّاس یَزْعُمُونَ أَنَّ ذَلِکَ تَقِیَّۃٌ ، قَالَ : وَکَیْفَ إِنْ کَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ لیَسُبُّ مَرْوَانَ فِی وَجْہِہِ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ حَتَّی یُوَلّی۔
(٧٦٥٠) حضرت بسام کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے سوال کیا کہ ائمہ کے پیچھے نماز پڑھی جائے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ ان کے ساتھ نماز پڑھ لو، کیونکہ ہم بھی ان کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ حضرت حسن اور حضرت حسین مروان کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ” تقیہ “ تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ حضرت حسن بن علی مروان کو منبر پر اس کے سامنے برا بھلا کہا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ والی بن گیا۔