(۷۶۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ : إنَّ أَبَا حَمْزَۃَ الثُّمَالیَّ ، وَکَانَ فِیہِ غُلُوٌّ ، یَقُولُ : لاَ نُصَلِّی خَلْفَ الأَئِمَّۃِ ، وَلاَ نُنَاکِحُ إِلاَّ مَنْ یَرَی مِثْلَ رَأْینَا ، فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ الحُسَیْنِ : بَلْ نُصَلِّی خَلْفَہُمْ وَنُنَاکِحُہُمْ بِالسُّنَّۃِ۔
(٧٦٥١) حضرت ابراہیم بن ابی حفصہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی بن حسین سے کہا کہ ابو حمزہ ثمالی ایک غالی شخص ہے اور وہ کہتا ہے کہ ہم ائمہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے اور ہم اس سے نکاح کا معاملہ نہیں کریں گے جس رائے ہماری رائے کے مطابق نہیں ہوگی۔ حضرت علی بن حسین نے فرمایا کہ ہم ان کے پیچھے نماز بھی پڑھتے ہیں اور ان کے ساتھ سنت طریقے سے نکاح بھی کریں گے۔