(۷۷۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِیِّ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ الْحَضْرَمِیِّ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُصَلِّ بِنَا حَتَّی بَقِیَ سَبْعٌ مِنَ الشَّہْرِ ، فَقَامَ بِنَا حَتَّی ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ، ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا فِی السَّادِسَۃِ ، ثُمَّ قَامَ بِنَا فِی الخَامِسَۃِ حَتَّی ذَہَبَ شَطْرُ اللَّیْلِ ، فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ قُمْتَ بِنَا بَقِیَّۃَ لَیْلَتِنَا ہَذِہِ ، فَقَالَ : إنَّہُ مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّی یَنْصَرِفَ کُتِبَ لَہُ قِیَامُ لَیْلَۃٍ۔ قَالَ : ثُمَّ صَلَّی بِنَا حَتَّی بَقِیَ ثَلاَثٌ مِنَ الشَّہْرِ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا وَجَمَعَ أَہْلَہُ وَنِسَائَہُ ، قَالَ : فَقَامَ حَتَّی تَخَوَّفْنَا أَنْ یَفُوتَنَا الْفَلاَحُ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا الْفَلاَحُ ؟ قَالَ : السَّحُورُ۔ (ابوداؤد ۱۷۳۰۔ احمد ۵/۱۶۳)
(٧٧٧٧) حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ رمضان میں ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ نے تیئس رمضان تک ہمیں تراویح کی نماز نہ پڑھائی، پھر جب رمضان کے سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمیں ایک تہائی رات تک نماز پڑھائی، پھر اگلی رات آپ نے تراویح نہ پڑھائی، پھر اگلی رات آپ نے ہمیں آدھی رات تک نماز پڑھائی۔ پھر ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگر آپ ہمیں باقی راتوں میں نماز پڑھا دیں تو اچھا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو شخص امام کے نماز پڑھتے رہنے تک اس کے ساتھ کھڑا رہا اس کے لیے پوری رات نماز پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ آپ نے پھر ہمیں نماز پڑھائی اور جب مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں تو آپ نے ہمیں تراویح کی نماز پڑھائی اور آپ نے اپنے اہل و عیال اور خواتین کو جمع فرمایا۔ اور اتنی دیر نماز پڑھائی کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں فلاح فوت نہ ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یہ فلاح کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا سحری۔