(۷۷۷۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی نُعَیْمُ بْنُ زِیَادٍ أَبُو طَلْحَۃَ الأَنْمَارِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ عَلَی مِنْبَرِ حِمْصَ یَقُولُ : قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِینَ إلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ ، وَقُمْنَا مَعَہُ لَیْلَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ إلَی نِصْفِ اللَّیْلِ ، وَقُمْنَا مَعَہُ لَیْلَۃَ سَابِعَۃٍ وَعِشْرِینَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ یَفُوتُنَا الْفَلاَحُ وَکُنَّا نَعُدُّہُ السَّحُورَ۔ (احمد ۴/۲۷۲۔ ابن خزیمۃ ۲۲۰۴)
(٧٧٧٨) حضرت نعیم بن زیاد ابو طلحہ انمار ی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر کو حمص کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رمضان کی تیئسویں رات کو رات کے پہلے تہائی حصے تک نماز پڑھتے رہے، پھر ہم آپ کے ساتھ پچیسویں رات کو آدھی رات تک نماز پڑھتے رہے اور ستائیسویں رات کو ہم اتنی دیر نماز پڑھتے رہے کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں فلاح فوت نہ ہوجائے، ہم سحری کو فلاح کہا کرتے تھے۔