(۸۱۲۴) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ أَنَا فِی رُفْقَۃٍ ، وعِکْرِمَۃُ فی رُفْقَۃٍ ، فَلَمْ یَکُنْ مَعَ عِکْرِمَۃَ وَأَصْحَابِہِ مَائٌ فَتَیَمَّمُوا وَصَلَّوْا فَأَتَوْا عَلَی الْمَائِ ، فَقَالَ لَہُم عِکْرِمَۃُ : تَرَوْنَ الشَّمْسَ عَلَی رَأْسِ الْجَبَلِ ؟ فَقَالُوا : لاَ ، قَالَ : لَوْ رَأَیْتُمُوہَا لَمْ نُعِدْ إذًا کَفَانَا التَّیَمُّمُ ، فَقَالَ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّی دَخَلْت الْجَنَد فَلَقِیتُ عَمْرَو بْنَ مُسْلِمٍ صَاحِبَ طَاوُوس ، فَحَدَّثْتُہُ بِمَا قَالَ عِکْرِمَۃُ ، فَانْطَلَقَ إلَی طَاوُوس فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ثُمَّ رَجَعَ إلَیَّ فَقَالَ : ذَکَرْتُ لِطَاوُوس مَا قَالَ عِکْرِمَۃُ فَقَالَ : صَدَقَ۔
(٨١٢٤) حضرت حکم بن ابان فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ ایک جماعت میں تھے اور میں ایک دوسری جماعت میں تھا، حضرت عکرمہ کی جماعت کے پاس پانی نہیں تھا، وہ تیمم کرکے نماز پڑھتے تھے۔ پھر جب وہ پانی کے پاس پہنچے تو حضرت عکرمہ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم پہاڑوں کے اوپر سورج کو دیکھ رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ اگر تم سورج کو دیکھتے پھر بھی ہم نماز کا اعادہ نہ کرتے کیونکہ ہمارے لیے تیمم کافی ہے۔ پھر جب میں مقام جند پہنچا تو میری حضرت طاوس کے شاگرد عمرو بن مسلم سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے حضرت عکرمہ کی اس بات کا ذکر کیا تو وہ حضرت طاوس کے پاس گئے اور ان سے اس بات کا ذکر کیا۔ پھر میرے پاس واپس آئے اور مجھے بتایا کہ میں نے حضرت طاوس سے عکرمہ کی بات کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ سچ کہتے ہیں۔