(۸۱۲۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ کَثِیرِ بْنِ نَبَاتَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ سِیرِینَ یَقُولُ : خَرَجْتُ فِی سَفَرِ حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ ، فَلَمَّا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ وَلَیْسَ مَعَنَا مَائٌ ، فَتَیَمَّمْت وَصَلَّیْت ، فَلَمَّا ارْتَفَعَ الضُّحَی قَالَ رَجُلٌ : یَا أَبَا بَکْرٍ أَعَدْتَ صَلاَتَکَ ؟ قَالَ : وَلَوْ لَمْ أَجِد الْمَائَ عِشْرِینَ سَنَۃً أَکُنْتُ أُعِیدُ صَلاَتِی۔
(٨١٢٥) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حج یا عمرہ کے ایک سفر پر تھا، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو مجھے جنابت لاحق ہوگئی۔ ہمارے پاس پانی نہ تھا، میں نے تیمم کرکے نماز پڑھی، جب چاشت کا وقت ہوگیا تو ایک آدمی نے کہا کہ اے ابوبکر ! آپ نے اپنی نماز دہرا لی ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر مجھے بیس سال تک بھی پانی نہ ملے تو کیا میں نماز کا اعادہ کروں گا ؟