(۸۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : جَائَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْہُ عَنِ الْمَرْأَۃِ تَرَی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ : إذَا رَأَتِ الْمَائَ فَلْتَغْتَسِلْ ، فَقُلْتُ لَہَا : فَضَحْت النِّسَائَ ، وَہَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَۃُ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَرِبَتْ یَمِینُک ، فَبِمَا یُشْبِہُہَا وَلَدُہَا إذنْ۔ (بخاری ۱۳۰۔ مسلم ۲۵۱)
(٨٨٣) حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ اگر عورت بھی اپنے خواب میں دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر وہ پانی دیکھے تو غسل کرے۔ میں نے ام سلیم سے کہا ” آپ نے عورتوں کو رسوا کردیا، کیا عورت کو احتلام ہوتا ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” تمہارا ناس ہو بچہ پھر ماں کے مشابہ کیوں ہوتا ہے۔