(۸۸۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخبرنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ سأَلَتْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَۃِ تَرَی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا رَأَتْ ذَلِکَ فَأَنْزَلَتْ فَعَلَیْہَا الْغُسْلُ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ : یَا رَسُولَ اللہِ أَیَکُونُ ہَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ، مَائُ الرَّجُلِ غَلِیظٌ أَبْیَضُ ، وَمَائُ الْمَرْأَۃِ رَقِیقٌ أَصْفَرُ ، فَأَیُّہُمَا سَبَقَ ، أَوْ عَلاَ ، أَشْبَہَہُ الْوَلَدُ۔
(مسلم ۳۰۔ نسائی ۲۰۲)
(٨٨٤) حضرت انس فرماتے ہیں کہ ام سلیم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو خواب میں وہ چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو فرمایا ” جب وہ یوں دیکھے اور اسے انزال ہوجائے تو اس پر غسل واجب ہے۔ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا ” یا رسول اللہ ! کیا ایسے بھی ہوتا ہے ؟ “ فرمایا ” ہاں “ مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوجاتا ہے۔ جس کا پانی غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔