(۹۳۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْیَزَنِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ الأَزْدِیِّ ، عَنْ جُنَادَۃَ الأَزْدِیِّ ؛ دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَبْعَۃِ نَفَرٍ مِنَ الأَزْدِ ، أَنَا ثَامِنُہُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَنَحْنُ صِیَامٌ ، فَدَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی طَعَامٍ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقُلْنَا : إنَّا صِیَامٌ ، قَالَ : ہَلْ صُمْتُمْ أَمْسِ ؟ قُلْنَا : لاَ ، قَالَ : فَہَلْ تَصُومُونَ غَدًا ؟ قُلْنَا : لاَ ، قَالَ : فَأَفْطِرُوا ، ثُمَّ خَرَجَ إلَی الْجُمُعَۃِ ، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ دَعَا بِإِنَائٍ مِنْ مَائٍ فَشَرِبَہُ ، وَالنَّاسُ یَنْظُرُونَ إلَیْہِ ، لِیُعَلِّمَہُمْ أَنَّہُ لاَ یَصُومُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ (نسائی ۲۷۷۴۔ حاکم ۶۰۸)
(٩٣٣٤) حضرت جنادہ ازدی کہتے ہیں کہ قبیلہ ازد کے ہم آٹھ لوگ جمعہ کے دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب کا روزہ تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھانا منگوا کر ہمارے سامنے رکھوایا تو ہم نے کہا کہ ہمارا روزہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا گزشتہ کل تم نے روزہ رکھا تھا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ آئندہ کل تم روزہ رکھو گے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ روزہ توڑ دو ۔ پھر آپ جمعہ کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو آپ نے پانی منگوا کر پیا۔ لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے۔ دراصل آپ انھیں بتانا چاہتے تھے کہ جمعہ کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزہ نہیں رکھتے۔