(۹۳۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَینَۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْیَانَ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ، قَالَ: مَنْ کَانَ مِنْکُمْ مُتَطَوِّعًا مِنَ الشَّہْرِ أَیَّامًا فَلْیَکُنْ فِی صَوْمِہِ یَوْم الْخَمِیسِ، وَلاَ یَصُومُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَإِنَّہُ یَوْمُ طَعَامٍ وَشَرَابٍ وَذِکْرٍ ، فَیَجْمَعُ للہِ یَوْمَیْنِ صَالِحَیْنِ ، یَوْمَ صِیَامِہِ وَیَوْمَ نُسُکِہِ مَعَ الْمُسْلِمِینَ۔
(٩٣٣٥) حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی نے اگر کسی مہینے میں نفلی روزہ رکھنا ہو تو وہ جمعرات کو روزہ رکھے، جمعہ کو روزہ نہ رکھے کیونکہ جمعہ کا دن کھانے، پینے اور ذکر کا دن ہے۔ جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے آدمی دو صالح دنوں کو جمع کردیتا ہے ایک روزہ کے دن کو اور دوسرا مسلمانوں کے ساتھ کھانے پینے کے دن کو۔