(۹۴۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ أَہْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ کَانُوا یَصُومُونَ یَوْمَ عَاشُورَائَ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَامَہُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ یُفْتَرَضَ رَمَضَانُ ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عَاشُورَائَ یَوْم مِنْ أَیَّامِ اللہِ ، فَمَنْ شَائَ صَامَہُ ، وَمَنْ شَائَ تَرَکَہُ۔ (بخاری ۴۵۰۱۔ مسلم ۷۹۲)
(٩٤٤٧) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ اہل جاہلیت عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں نے رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عاشوراء کا دن اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔