(۹۴۴۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ عَاشُورَائُ یَوْمًا تَصُومُہُ قُرَیْشٌ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ صَامَہُ ، وَأَمَرَ بِصِیَامِہِ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ کَانَ رَمَضَانُ ہُوَ الْفَرِیضَۃَ ، وَتَرَکَ عَاشُورَائَ ، فَمَنْ شَائَ صَامَہُ وَمَنْ شَائَ تَرَکَہُ۔
(مسلم ۷۹۲۔ ابوداؤد ۲۴۳۴)
(٩٤٤٨) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو آپ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہیں اور عاشوراء کے روزے کی فرضیت ختم ہوگئی ہے۔ اگر کوئی چاہے تو روزہ رکھے اور اگر چاہے تو نہ رکھے۔